11 October 2026
نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ | 09-10-2026
خطبات
About
نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 26؍ ربیع الثانی 1448ھ / 09؍ اکتوبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(1) یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3) اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4). (61–صف:1 تا 4)
ترجمہ : ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا، اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو، اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
1:37 کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا نسخۂ حیات‘ اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت
3:13 میدانِ حشر میں کل انسانیت؛ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ذمہ داریوں کے حساب کی بنیاد پر جزا و سزا
9:40 معاشرے اور اجتماعیت کی بنیاد‘ باہمی معاہدات کی پاسداری اور اپنی آزاد مرضی سے ذمہ داریاں قبول کرنا
11:25 معاہدات کی خلاف ورزی‘ اجتماعی نظم کے لیے انتہائی خطرناک اور انسانیت سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے
14:10 انسانی زندگی میں قول اور فعل کی اہمیت نیز احکاماتِ الہیہ کے مطابق اور ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ کنٹرول گفتگو کرنا‘ قرآنی تعلیم ہے
17:06 خطبے کی مرکزی آیات کے پسِ منظر میں سماجی تشکیل کے لیے قول و فعل کی یکسانیت کی ضرورت و اہمیت
18:39 ریاستِ مدینہ میں منافقین جماعت کا ظہور‘ غزوہ بدر میں ریاستِ مکہ کی شکست کے بعد ہوا
21:48 تسبیح و تحمید کی حقیقت: کائنات کی تمام مخلوقات کا اپنی مخصوص فطری اور طے شدہ ذمہ داریوں کو بغیر کسی انحراف کے مکمل طور پر پورا کرنا
26:21 عرشی و فرشی مخلوقات کی طے شدہ ذمہ داریوں کے تناظر میں تسبیح و تحمید کی مزید وضاحت
32:45 ’’العزیز‘‘ اور ’’الحکیم‘‘ کی وضاحت اور ان دو اوصاف کے تناظر میں تمام مخلوقات پر اللہ تعالٰی کی قولی اور عملی حاکمیت
37:34 عمل کے لیے منظم ترتیب اور حکمت لازمی و ضروری نیز قرآن میں قانونِ الہی کے بعد اسمِ الہی کے ذکر کرنے کا گہرا راز
40:00 ایمان کا مفہوم: اللہ تعالٰی کو عزیز اور حکیم تسلیم کرتے ہوئے اپنے قول و فعل کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دینا
43:24 دنیا میں نبی اکرم ﷺاور آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ‘ اللہ کے ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ ہونے کا مظہر ہیں نیز انسان کا امتحان اور آیت ’’لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ کے تناظر میں جماعتی زندگی کا فساد‘ قول اور فعل میں تضاد کا نتیجہ ہے
45:24 اس آیت کا پسِ منظر، غزوہ احد میں آپؐ کی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے نتائج اور قول و فعل میں تضاد پر اللہ کی تنبیہ و توبیخ
55:49 دشمن کا مقابلہ کرنے والی منظم، بنیانِ مرصوص اور معیاری ایمان‘ قول و عمل میں یکسانیت والی جماعت‘ اللہ کو بہت ہی محبوب
57:13 نظامِ شمسی اور گردشی نظام کے تناظر میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعیت کی اہمیت
58:40 ایک فرد کا اپنی ذمہ داری سے انحراف کا خمیازہ‘ پوری اجتماعیت بھگتی ہے
1:02:35 یورپین اقوام کا ریاستی نظام میں نفاق اور جھوٹ پر مبنی قول و عمل کے تضاد اور منافقانہ معاہدوں کی اساس پر قائم قومی و عالمی نظام کی تین سو سالہ تاریخ اور عصری المیے کا جائزہ
1:08:46 قول و عمل کے تضاد پر غضبِ الٰہی اور سزا؛ قومی شناخت تباہ اور سیاسی و اقتصادی غلامی
1:10:05 انسانی سماج کے تجزیے کا قرآنی اسلوب اور قول و عمل کے تضاد کا شکار جماعتوں، ریاستوں اور عالمی قوانین کا جائزہ
1:17:37 حضورؐ نے ایک ماں کو اپنے بچے سے بھی جھوٹا وعدہ کرنے سے منع کیا
1:19:59 آج کے عالمی، ریاستی اور جماعتی منافقت کے دور میں ایمانی تقاضے کے مطابق ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کی اہمیت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 26؍ ربیع الثانی 1448ھ / 09؍ اکتوبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(1) یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3) اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4). (61–صف:1 تا 4)
ترجمہ : ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا، اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو، اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
1:37 کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا نسخۂ حیات‘ اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت
3:13 میدانِ حشر میں کل انسانیت؛ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ذمہ داریوں کے حساب کی بنیاد پر جزا و سزا
9:40 معاشرے اور اجتماعیت کی بنیاد‘ باہمی معاہدات کی پاسداری اور اپنی آزاد مرضی سے ذمہ داریاں قبول کرنا
11:25 معاہدات کی خلاف ورزی‘ اجتماعی نظم کے لیے انتہائی خطرناک اور انسانیت سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے
14:10 انسانی زندگی میں قول اور فعل کی اہمیت نیز احکاماتِ الہیہ کے مطابق اور ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ کنٹرول گفتگو کرنا‘ قرآنی تعلیم ہے
17:06 خطبے کی مرکزی آیات کے پسِ منظر میں سماجی تشکیل کے لیے قول و فعل کی یکسانیت کی ضرورت و اہمیت
18:39 ریاستِ مدینہ میں منافقین جماعت کا ظہور‘ غزوہ بدر میں ریاستِ مکہ کی شکست کے بعد ہوا
21:48 تسبیح و تحمید کی حقیقت: کائنات کی تمام مخلوقات کا اپنی مخصوص فطری اور طے شدہ ذمہ داریوں کو بغیر کسی انحراف کے مکمل طور پر پورا کرنا
26:21 عرشی و فرشی مخلوقات کی طے شدہ ذمہ داریوں کے تناظر میں تسبیح و تحمید کی مزید وضاحت
32:45 ’’العزیز‘‘ اور ’’الحکیم‘‘ کی وضاحت اور ان دو اوصاف کے تناظر میں تمام مخلوقات پر اللہ تعالٰی کی قولی اور عملی حاکمیت
37:34 عمل کے لیے منظم ترتیب اور حکمت لازمی و ضروری نیز قرآن میں قانونِ الہی کے بعد اسمِ الہی کے ذکر کرنے کا گہرا راز
40:00 ایمان کا مفہوم: اللہ تعالٰی کو عزیز اور حکیم تسلیم کرتے ہوئے اپنے قول و فعل کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دینا
43:24 دنیا میں نبی اکرم ﷺاور آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ‘ اللہ کے ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ ہونے کا مظہر ہیں نیز انسان کا امتحان اور آیت ’’لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ کے تناظر میں جماعتی زندگی کا فساد‘ قول اور فعل میں تضاد کا نتیجہ ہے
45:24 اس آیت کا پسِ منظر، غزوہ احد میں آپؐ کی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے نتائج اور قول و فعل میں تضاد پر اللہ کی تنبیہ و توبیخ
55:49 دشمن کا مقابلہ کرنے والی منظم، بنیانِ مرصوص اور معیاری ایمان‘ قول و عمل میں یکسانیت والی جماعت‘ اللہ کو بہت ہی محبوب
57:13 نظامِ شمسی اور گردشی نظام کے تناظر میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعیت کی اہمیت
58:40 ایک فرد کا اپنی ذمہ داری سے انحراف کا خمیازہ‘ پوری اجتماعیت بھگتی ہے
1:02:35 یورپین اقوام کا ریاستی نظام میں نفاق اور جھوٹ پر مبنی قول و عمل کے تضاد اور منافقانہ معاہدوں کی اساس پر قائم قومی و عالمی نظام کی تین سو سالہ تاریخ اور عصری المیے کا جائزہ
1:08:46 قول و عمل کے تضاد پر غضبِ الٰہی اور سزا؛ قومی شناخت تباہ اور سیاسی و اقتصادی غلامی
1:10:05 انسانی سماج کے تجزیے کا قرآنی اسلوب اور قول و عمل کے تضاد کا شکار جماعتوں، ریاستوں اور عالمی قوانین کا جائزہ
1:17:37 حضورؐ نے ایک ماں کو اپنے بچے سے بھی جھوٹا وعدہ کرنے سے منع کیا
1:19:59 آج کے عالمی، ریاستی اور جماعتی منافقت کے دور میں ایمانی تقاضے کے مطابق ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کی اہمیت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا